اعداد وشمار
مادہ
بیت الخلاء کی دعاء
درس کا خلاصہ
بیت الخلاء شیاطین کی آماجگاہ ہے، اس میں داخل ہونے سے قبل اور نکلنے کے بعد مسنون دعاء ضرور پڑھیں
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
بیت الخلاء کی دعاء
سیدنا انس ابن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب قضائے حاجت کو جاتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ»([1])
’’اے اللہ! میں خبیث جنوں اور خبیث جننیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں: جب نبی کریم ﷺ قضائے حاجت کرکے نکلتے تو کہتے: «غُفْرَانَكَ» ([2])
’’اے اللہ! میں تجھ سے تیری بخشش کا طلب گار ہوں ۔‘‘
نبی کریم ﷺ نے بیت الخلاء میں داخل ہونے کی جو دعاء سکھائی ہے ، اس پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ بیت الخلاء جن اور شیاطین کی آماج گاہ ہے ۔ بیت الخلاء اور قضائے حاجت کی جگہوں میں داخلے سے پہلے اللہ رب العالمین سے دعا کی جاتی ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ان کے شر سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں: «إِنَّ هَذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ، فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلْيَقُلْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ» ([3])
’’قضائے حاجت کی جگہوں پرشیاطین حاضر ہوتے ہیں ،(یعنی قضائے حاجت اور بیت الخلاء کی جگہیں شیاطین کی آماجگاہیں اور ان کے گھر ہیں) لہٰذا بیت الخلاء میں داخل ہونے سے پہلے ان جنوں کی خباثت سے بچنے کے لیے دعا کرلیا کرو۔‘‘
عام طور پر ہمارے گھروں میں بچوں کا بہت زیادہ ضدی ہو جانا ، والدین کا نافرمان ہونا اور اس طرح کے کئی مسائل کے دیگر اسباب کے ساتھ ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ بچوں کو قضائے حاجت کے آداب کی تعلیم نہیں دی جاتی۔ انہیں دعا پڑھنے کا پابند نہیں کیا جاتا۔ اس لیے خود بھی دعا پڑھیں اور بچوں پر بھی لازم کریں کہ وہ دعا پڑھ کر بیت الخلاء میں جائیں ۔ پھر جب نکلیں تب پھر دعا پڑھیں تاکہ شیطانی اثرات سے محفوظ رہ سکیں ۔
پھر ہمارے ہاں ایک اتنی آسانی کا دور ہے کہ ہر کمرے کے ساتھ واش روم ہوتا ہے اور واش روم کا دروازہ اکثر و بیشتر کھلا رہتا ہے۔ اس سے بھی بچیں۔ اس کا دروازہ بند رکھیں۔ جب داخل ہونا ہے تو کھولیں اور جائیں اور باہر نکلیں تو بند کر دیں تاکہ جو شیاطین ہیں وہ اپنی جگہ پر ہی رہیں۔ وہاں سے نکل کر سارے گھر میں تباہی نہ مچائیں۔
اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے وضاحت فرما دی کہ قضائے حاجت کی جگہوں پر جن اور شیاطین حاضر ہوتے ہیں۔ نیک جنوں کی خوراک پاک صاف ہے اور جو جنوں میں سے شیاطین ہیں، ان کی خوراک یہی غلاظت اور نجاست ہے اور یہ گندی جگہوں پر رہنا پسند کرتے ہیں ۔
________________
([1]) البخاري (142)، ومسلم (375)، وأبو داود (4)، والترمذي (5)، والنسائي (10)، وابن ماجه (296)، أحمد (3/ 99 و 101 و 282)
([2]) أبو داود (30)، والترمذي (7)، وابن ماجه (300)، والنسائي في «عمل اليوم والليلة» (79)، وأحمد (655)، وابن حبان (1444)، والحاكم (185)
-
الاثنين AM 01:20
2022-04-11 - 1324





