اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

مصحف بیت الخلاء میں لیجانا

درس کا خلاصہ

قرآن مجید ، اللہ تعالیٰ کے اسماء اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر یہ سب اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہے۔ ان کی تعظیم اور ادب واحترام کرنا ضروری ہے اور تقویٰ کا تقاضا ہے۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ بندے کے پاس اگر کوئی ایسی چیز یا قرآن مجید کا چھوٹا مصحف یا اسی طرح کی کوئی اور چیز ہو،جس پر اللہ کا ذکر ہو، اسے نکال کر قضائے حاجت کے لیے جائے ۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

مصحف بیت الخلاء میں

 

سیدنا  انس ابن مالک ﷜ کی ایک روایت  ہے کہ نبی کریم ﷺ  جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو اپنی انگوٹھی اتار دیتے تھے۔([1])

  نبی ﷺ کی انگوٹھی ان کی مہر تھی جس پر محمد رسول اللہ ﷺ  لکھا ہوا تھا۔ اس کو مہر کے طور پر استعمال کرتے تھے۔([2])

انگوٹھی اتار کر بیت الخلاء جانے والی روایت معلول ہے۔ ثابت نہیں ہے۔ لیکن مسئلہ جو اس میں بیان ہوا ہے، وہ ٹھیک ہے  کہ اللہ تعالیٰ کا نام کسی چیز پر لکھا ہو اہو، جس طرح کوئی انگوٹھی یا بیج وغیرہ لگالیتے ہیں تو اسے لے کر قضائے حاجت کے لیے جانا درست نہیں۔ حدیث اگرچہ ضعیف ہے، مگر  یہ مسئلہ قرآن مجید سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں: وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ  [الحج: 32]

’’اور جو اللہ تعالیٰ کے شعائر کی  تعظیم کرتا ہے، یہ دلوں کے تقویٰ  کی دلیل  اورنشانی ہے۔‘‘

قرآن مجید ، اللہ تعالیٰ کے اسماء اور اسی طرح  اللہ تعالیٰ کا ذکر یہ سب اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہے۔ ان کی تعظیم اور ادب واحترام کرنا ضروری ہے اور تقویٰ کا تقاضا ہے۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ بندے کے پاس اگر کوئی ایسی چیز یا قرآن مجید  کا چھوٹا  مصحف  یا اسی طرح کی کوئی اور چیز ہو،جس پر اللہ کا  ذکر ہو، اسے نکال کر قضائے حاجت کے لیے جائے ۔

یہاں ایک اور بات سمجھنے کی ہے۔ آج کل موبائل کا دور ہے۔ اس میں قرآن اور احادیث، آڈیو اور ٹیکسٹ دونوں صورتوں میں ہوتے ہیں۔ اس کا معاملہ قدرے مختلف ہے۔ وہ اس لیے کہ  جو آئی ٹی سے تعلق رکھتے ہیں وہ اچھی طرح سمجھتے  ہیں  کہ کسی بھی ڈیوائس میں جو ڈیٹا موجود ہوتا ہے، وہ اپنی حقیقی اور اصلی شکل میں نہیں ہوتابلکہ اس کے بیک اینڈ میں مختلف کوڈز کی شکل میں ہوتا ہے۔ زیرو ، ون ،زیرو  اور اس طرح کے کوڈز ہوتے ہیں ۔ جب آپ اس کو ڈسپلے پر لےکر آتے ہیں تو گویا آپ اپنی مشین کو یہ آرڈر دیتے ہیں کہ یہ ان کوڈز کو  سکھائے گئے طریقہ کار کے مطابق جمع کرکے وہ شے سامنے لائے ۔ چاہے وہ آواز ہو، ویڈیوہو ، تصویر ہو یا کوئی ٹیکسٹ ہو ۔ انہی کوڈز کو ملا کر پروسیسنگ کے بعد وہ مشین آپ کے سامنے پیش کرتی ہے۔ جب آپ اس کا ڈسپلے آف کردیں تو یہ واپس اسی حالت میں چلا جاتا ہے ۔ اس ڈیوائس میں جو بھی ہے، وہ اپنی اصلی حالت میں نہیں ہوتا۔ لیپ ٹاپ،موبائل، کمپیوٹر اور اس طرح کی جتنی بھی چیزیں ہیں، یہ مواد کو اپنی اصلی حالت میں محفوظ نہیں رکھتیں، بلکہ کوڈز کے اندر ڈھال کر اپنے اندر محفوظ رکھتی ہیں  ۔ اس کے  ڈسپلے پر قرآن مجید کھلا ہوا ہے، آپ پڑھ رہے ہیں،سکرین آن  ہے اور اس حالت میں آپ بیت الخلاء میں  جائیں تو یہ درست نہیں ہوگا۔ اس کی سکرین آف کردیں، پھر چلے جائیں۔ کیونکہ سکرین آف کرنے کے بعد وہ چیز ہی بدل گئی۔ وہ قرآن  نہیں  رہا وہ دوبارہ کوڈز کے اندر جاچکاہے۔ تو اس کا معاملہ قدرے  مختلف ہے۔ اس کے علاوہ ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر یا اس طرح کی کوئی چیز ہو ، اس کو بیت الخلاء میں لے کے جانے سے گریز کرنا یہ اولیٰ اور بہتر ہے ۔

 اللہ تبارک وتعالیٰ سمجھنے  اورعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

________________________

([1])           أبو داود (19)، والترمذي (1746)، والنسائي (1/ 178)، وابن ماجه (303)

([2])           البخاري (65)، ومسلم (2092)

  • الاثنين AM 01:28
    2022-04-11
  • 1214

تعلیقات

    = 6 + 3

    /500
    Powered by: GateGold