اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

وضو کا پانی

درس کا خلاصہ

تقریباً آدھا لیٹر پانی سے آپﷺ وضو کرتے تھے۔ یہ نبی کریم ﷺ کا معمول تھا اور چار سے پانچ مد کے ساتھ آپ ﷺ غسل کر لیتے تھے۔ تقریباًدو سے اڑھائی لیٹر پانی سے آپﷺ غسل کرتے تھے ۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

وضو کا پانی

 

سیدنا انس ابن مالک ﷜ بیان کرتے ہیں: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ, وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ إِلَى خَمْسَةِ أَمْدَادٍ» ([1])

’’نبی کریم ﷺایک مد پانی سے وضو کرتے تھے اور ایک صاع پانی سے غسل کرتے تھے ۔‘‘

 ایک صاع تقریبا ًدو کلو اور سو گرام بنتا ہے اور ایک صاع میں چار مد ہوتے ہیں اور ایک مد بنتا ہے پانچ سو پچیس گرام تقریباًِِِ۔ یعنی تقریباً آدھا لیٹر پانی سے آپﷺ وضو کرتے تھے۔ یہ نبی کریم ﷺ کا معمول تھا اور چار سے پانچ مد کے ساتھ آپ ﷺ غسل کر لیتے تھے۔ تقریباًدو سے اڑھائی لیٹر پانی سے آپﷺ غسل کرتے تھے ۔ آج کل ہمارے پاس تو پانی کی فراوانی ہے اور بےشمار سہولیات میسر ہیں۔ ٹونٹی کھلتی ہے اورپانی بہتا چلا جاتا ہے۔ کوئی پروا نہیں ہوتی۔نبی کریم ﷺ  انتہائی تھوڑے  پانی کے ساتھ غسل کرتے  اور تھوڑے پانی کے ساتھ وضو کرتے ۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ کے پاس پانی لایا گیا: «أُتِىَ بِثُلُثَيْ مُدٍّ, فَجَعَلَ يَدْلُكُ ذِرَاعَيْهِ» ([2])

’’دو تہائی مدپانی(ایک مد بھی پورا نہیں، تقریباً سوا 1400 ملی لیٹر، اس) سے آپ نے وضو کیا۔بازوؤں کو اچھی طرح مل مل کے دھونے لگے۔‘‘

تاکہ کوئی جگہ خشک نہ رہ جائے ۔ پانی تھوڑا تھا اس سے بھی وضو اچھی طرح سے کیا ۔

 سیدنا انس ﷜ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا ، اس کے پاؤں کے پاس تھوڑی سی جگہ خشک رہ گئی تھی تو آپﷺ نے فرمایا: «ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ» ([3])

’’جاؤ اور جاکر اچھی طرح سے وضو کرو۔‘‘

وضو کے اعضاء میں سے اگر کوئی عضو خشک رہ جائے تو وضو دوبارہ کرنا پڑے گا ۔ ایک آدمی کو نبی کریم ﷺ نے دیکھا، اس کی ایڑی کے پاس تھوڑی سی جگہ خشک تھی اور وہ نماز پڑھ رہا تھا تو نبی کریم ﷺ نے اس کو حکم دیا: «أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ» ([4])

’’وضو بھی دوبارہ کرے اور نماز بھی دوبارہ پڑھے۔‘‘

یعنی اعضائے وضو میں سے اگر  کوئی جگہ خشک رہ جائے تو وضو بھی  نہیں اور اس وضو سے پڑھی گئی نماز بھی  عند اللہ مقبول نہیں ۔ ایسے بندے کو وضو بھی دوبارہ کرنا پڑے گا اور نماز بھی دہرانی پڑے گی ۔کیونکہ وضو نہیں تو نماز نہیں۔ نبی کریم ﷺکا فرمان ہے: «مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ» ([5])

’’ طہارت نماز کی کنجی ہے۔‘‘

اگر وضو ہی نہیں تو نماز بھی نہیں ۔ وضو اس طرح سے کیا جا  ئے  کہ کوئی جگہ خشک نہ رہے ۔

 اللہ سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

___________________________

([1])           البخاري (201)، ومسلم (325) (51)

([2])           أحمد (4/ 39)، وابن خزيمة (118)

([3])           أبو داود (173)

([4])           أبو داود (175)

([5])           أبو داود (618)

 

  • الاثنين AM 02:04
    2022-04-11
  • 1399

تعلیقات

    = 8 + 8

    /500
    Powered by: GateGold