اعداد وشمار
مادہ
وضوء کا طریقہ (حصہ اول)
درس کا خلاصہ
وضوء کرنے کا مسنون طریقہ کتاب وسنت کے دلائل کی رو سے
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
وضو کا طریقہ (حصہ اول)
سیدنا عمر فاروق فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا: «إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى» ([1])
’’اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر بندے کو وہی ملےگا جس کی اس نے نیت کی۔‘‘
لہٰذا وضو کرنے کے لیے بھی نیت ضروری ہے۔نیت دل کے ارادے کو کہتے ہیں۔ زبان سے ادا کیے گیے الفاظ نیت نہیں ہوتے ۔ اسے آپ اقرار کہہ سکتے ہیں۔نیت دل کاارادہ ہوتا ہے۔ بندہ وضو کرنے کی نیت سے ، اعضائے وضو دھوئے گا تو وضو ہوگا۔ اگر وضو کی نیت نہیں، مثلا ً ایک بندہ صبح اٹھتا ہے، واش روم سے ہوکر وہ اپنے ہاتھ دھو لیتا ہے، کلی کر لیتا ہے اور ناک اچھی طرح صاف کرلیتا ہے ، چہرہ دھو لیتا ہے اورپھر اس کے بعد کہتا ہے: آدھاوضو تو میرا ہوہی گیا ہے ، باقی بازو دھو کر، سر کا مسح کرکے اور پاؤں دھو کے وضو پورا کر لوں ، تو یہ اس کا وضو نہیں ہوگا۔ پہلے اس نے جو کام سرانجام دیئے ہیں وہ وضو کی نیت سے نہیں کیے جبکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔ تو وضو کی نیت سے وضو کے ارادے سے اعضائے وضو دھونے کا آغاز کریں۔ پھر نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: «لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ» ([2])
’’اس بندے کاوضو نہیں جو وضو سے پہلے اللہ کانام ذکر نہیں کرتا۔‘‘
چنانچہ وضو سے پہلے اللہ کا نام ذکر کرنا ،بسم اللہ پڑھنا فرض اور لازم ہے۔ اس کے بغیر وضو نہیں ہوتا ۔ نیت کرنا بھی فرض ہے کیونکہ نیت کے بغیر اعمال نہیں اور وضو سے پہلے بسم اللہ پڑھنا بھی فرض ہے ۔
مسواک کی اہمیت میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ نبی ﷺ نے ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ خواہش ظاہرکی: «لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ وُضُوءٍ» ([3])
’’اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ سمجھتا تو (ہر نماز کے ساتھ یا) ہر وضو کے ساتھ مسواک کا حکم دیتا۔‘‘
یعنی اگر حکم دیتا تو فرض ہو جاتااور فرض میں یہ کوتاہی کرتے تو گناہ گار ہوتے اور یہ کام ان کے لیے ذرا مشکل تھا اس لیے میں نے حکم نہیں دیا۔ اس سے یہ پتہ چلا کہ نبی ﷺ کا حکم فرض ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ جس کام کے کرنے کا حکم دیں، وہ کام فرض اور واجب ہوتا ہے ۔
رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے: «إِذَا تَوَضَّأْتُمْ فَابْدَءُوا بِمَيَامِنِكُمْ»([4])
’’جب تم وضو کرو تو اپنی دائیں جانب سے آغاز کرو۔‘‘
وضو کے لیے نیت کرنا بھی فرض ہے، بسم اللہ پڑھنا بھی فرض ہے،اور دائیں جانب سے آغازکرنا بھی فرض ہے، کیو نکہ نبی ﷺ نے اس کا حکم دیا ہے۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: «إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلَا يَغْمِسُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدَهُ» ([5])
’’جب تم میں سے کوئی نیند سے اٹھنے کے بعد تین بارہاتھ نہ دھو لے ، اس وقت تک اسے کسی برتن میں نہ ڈالے۔‘‘
نیند سے بیدار ہوکر پہلے ہاتھ دھونے کا حکم دیا ہے۔ یہ بھی فرض اور لازم ہے ، کیونکہ ہاتھ کے ساتھ ہی آپ نے کلی کرنی ہے، پانی ڈالنا ہے، اعضائے وضو کو دھوناہے اور ہاتھ ہی اگر صاف نہیں ہوں گے تو کا م خراب ہوجائیں گے۔
نبیﷺ کا فرمان ہے: «إِذَا تَوَضَّأْتَ فَمَضْمِضْ» ([6]) وفي رواية: «وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ, إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا» ([7])
’’جب تو وضو کرنے لگے تو کلی کر ، ناک میں پانی چڑھا اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کر ، اچھی طرح پانی چڑھا۔ البتہ روزے کی حالت میں ناک میں زیادہ پانی نہیں چڑھانا۔‘‘
یعنی اگر روزہ نہیں تو پھر اچھی طرح کرنا ہے ۔کلی کرنے کا بھی حکم دیا ، ناک میں پانی چڑھانے کا بھی حکم دیا ، اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرنے کا بھی حکم دیا۔ نبی ﷺ نے ان تینو ں کاموں کا حکم دیا ہے ، اس لیے یہ بھی فرض ہیں ۔ پھر اسی طرح ایک حدیث میں آتا ہے: «إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَنْشِقْ بِمَنْخِرَيْهِ مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ لِيَنْتَثِرْ» ([8])
’’جب تم وضو کرو تو ناک میں پانی چڑھا ؤ اور ناک جھاڑو۔‘‘
لہٰذا وضو کے دوران ناک کو جھاڑنے کا بھی حکم ہے نبی ﷺ کا، اس لیے یہ بھی فرض اور لازم ہے ۔ استنشاق کہتے ہیں ناک کی ہوا سے پانی کو کھینچنا اور استنثار کہتے ہیں ناک کی ہوا سے پانی باہر نکالنا۔ صرف ناک کے ساتھ پانی لگا کے چھوڑ دینا استنشاق نہیں ہے۔ استنشاق کا عمل تب بنے گا جب ناک کی ہواسے آپ پانی کو کھینچیں گے اور اگر روزہ نہیں ہے تو تھوڑا زیادہ کھینچیں گے، لیکن اتنا بھی زیادہ نہ ہو کہ غو طہ آجائے ۔اور استنشار کا مطلب ناک کی ہوا سے جھاڑناہے ، ناک کی ہوا کو باہر خارج کرنا ہے ۔ یہ کا م وضو میں فرض ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا طریقہ کارتھاکہ آپﷺ وضو کرتے ہوئے ایک چلو میں پانی لیتے اور تھوڑا سا منہ میں ڈالتے کلی کے لیے اور اسی میں سے باقی ناک میں ڈالتے۔ ([9])
تین مرتبہ کلی کرنا ، اور پھر الگ تین بار ناک میں پانی چڑھا نا نبیﷺ سے ثابت نہیں۔یہ سارے کا م کتنے ہو گئے :
- نیت کرنا ۔
- بسم اللہ پڑھنا۔
- دائیں طرف سے آغاز کرنا۔
- ہاتھ دھونا۔
- کلی کرنا۔
- ناک میں پانی چڑھانا ۔
- ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرنا ۔
- ناک جھاڑنا
یہ آٹھ کا م ہو گئے اور یہ آٹھوں کا م فرض ہیں۔
پھر اللہ کا حکم ہے: ‹فَاغْسِلُوْا وُجُوْہَكُمْ› [المائدۃ: 6]
’’اپنے چہروں کو دھو لو۔‘‘
اللہ کا حکم بھی فرض ہے، اس لیے
- چہرہ دھونا
بھی فرض اور لازم ہے۔
ابو داؤد میں حدیث ہے: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ، أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَأَدْخَلَهُ تَحْتَ حَنَكِهِ فَخَلَّلَ بِهِ لِحْيَتَهُ»، وَقَالَ: «هَكَذَا أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ» ([10])
نبی ﷺ نے وضو کیا، چہرہ دھویا، پھر ایک چلو میں پانی لیا اوراپنی ٹھوڑی کے نیچے داخل کیا اور اس سے اپنی داڑھی کا خلال کیا اور فرمایا: ’’مجھے میرے اللہ عزوجل نے اسی طرح کرنے کا حکم دیا ہے ۔‘‘
لہٰذا
- داڑھی کا خلا ل کرنا
بھی فرض ہےکیونکہ اللہ عزوجل کا حکم ہے۔
اللہ سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق دے۔
__________________________________
([1]) البخاري (1)، ومسلم (1907)
([2]) أحمد (2/ 418)، وأبو داود (101)، وابن ماجه (399)
([3]) أحمد (2/ 460 و 517)، والنسائي في «الكبرى» (298)، وابن خزيمة (140)
([4]) أبو داود (4141)، والترمذي (1766)، والنسائي في «الكبرى» (5/ 482)، وابن ماجه (402)، وابن خزيمة (178)
([5]) البخاري (162)، ومسلم (278)
([7]) أبو داود (142 و 143)، والنسائي (1/ 66 و 69)، والترمذي، (38)، وابن ماجه (448)، وابن خزيمة (150 و 168)
([8]) البخاري (161)، ومسلم (237)
([9]) البخاري (186)، ومسلم (235)
-
الاثنين AM 02:16
2022-04-11 - 1322





