اعداد وشمار
مادہ
وضو کے ساتھ مسواک
درس کا خلاصہ
ہر وضو کے ساتھ کوشش کرکے بندہ مسواک کرلےتو جیسے وضو کے ساتھ گناہ جھڑتے ہیں اور اعضائے وضو دھل کر صاف ہوجاتے ہیں، مسواک سے منہ کا اندونی حصہ صاف ہو جائے گا اور اللہ کی رضا مندی کا یہ باعث بن جائے گی۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
وضو کے ساتھ مسواک
سیدنا ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: «لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ وُضُوءٍ» ([1])
’’اگرمیں امت پر مشقت نہ سمجھتا تو میں ان کو ہر وضو کے ساتھ مسواک کا حکم دیتا۔‘‘
اب نبی کریم ﷺ نے حکم دینے کی خواہش کا اظہارکیا ہے ، حکم دیا نہیں، کیونکہ آپﷺ اس خدشے کا اظہار فرما رہے ہیں کہ میری امت پر مشقت ہو جائے گی ۔ کیونکہ نبی کریمﷺ کا حکم ،فرض اور واجب ہوتا ہے۔ اگر آپ حکم دے دیتے تو ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنا فرض ہوجاتی، لیکن نبی کریم ﷺ نے حکم نہیں دیا۔البتہ خواہش کا اظہار کیا ہے کہ یہ اتنا افضل اور بہتر عمل ہے کہ میرا جی چاہتاہے کہ میں حکم دوں ۔ لیکن اس ڈر کی وجہ سے حکم نہیں دیتا کہ میری امت پر مشقت پیدا نہ ہو جائے ۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: «إِنَّ السِّوَاكَ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ» ([2])
’’یہ منہ کو پاک کرنے والی ہے اور رب کو راضی کرنے والی ہے۔‘‘
مسواک کرنے کا یہ اجر اور ثواب ہے۔ ہر وضو کے ساتھ کوشش کرکے بندہ مسواک کرلےتو جیسے وضو کے ساتھ گناہ جھڑتے ہیں اور اعضائے وضو دھل کر صاف ہوجاتے ہیں، مسواک سے منہ کا اندونی حصہ صاف ہو جائے گا اور اللہ کی رضا مندی کا یہ باعث بن جائے گی۔ یہی وجہ ہے نبی کریم ﷺ روزے کی حالت میں بھی مسواک کیاکرتے تھے ، اور ایک دو مرتبہ نہیں، کئی مرتبہ نبی کریم ﷺ کو روزےکی حالت میں مسواک کرتے دیکھاگیا۔ ([3])
آپﷺ مسواک کا بڑا اہتمام کرتے تھے ۔ نبی کریم ﷺ امہات المومنین میں سے کسی کے گھر لے جاتے جس کی باری ہوتی تو وہاں جاتے ہی پہلا کام مسواک کرناہوتا۔ ([4])
اسی طرح رات سو کر صبح اٹھتے تو بھی مسواک کرتے تھے۔ ([5])
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ ہم سب یعنی امہات المومنین کا یہ معمول تھا کہ رسول اللہ ﷺ کےلیے وضو کا پانی اور مسواک تیار کر کے رکھتے تاکہ رسول اللہ ﷺ کو کوئی دقت اور پریشانی نہ ہو تاکہ رات کو جب بھی اٹھیں مسواک کریں وضو کریں اور قیام اللیل کر لیں ۔([6])
حتی کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی میں آخری عمر میں، جس وقت آپ بیمار ہوئے اور کمزور ہوگئے تو سیدہ عائشہ فرماتی ہیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے میرا لعاب اور نبی کریم ﷺکا لعاب جمع کردیا۔ میں نے محسوس کیا کہ آپ مسواک کی خواہش فرما رہے ہیں تو میں نے لکڑی لی مسواک کے لیے اور اس کو چبایا ، چبا کر نرم کیا اور نرم کرکے میں نے مسواک نبی کریم ﷺکو دی اور آپﷺ نے مسواک کی۔([7])
یہ رسول اللہ ﷺ کا معمول اور آپ ﷺ کی سنت تھی۔ اسی کے پیش نظر آپ ﷺ نے یہ خواہش کی کہ میرا جی چاہتا ہے کہ میں حکم دے دوں لیکن یہ ڈر ہے کہ اگر میں نے حکم دے دیا تو ان پر فرض ہو جائے گا اور اس فرض کو ان کے لیے نبھانا مشکل ہوجائے گا اور فرض اگر چھوڑیں گے تو گناہ گا رہو جائیں گے لہذا حکم نہیں دیا، صرف خواہش کا اظہار کیا ۔
اللہ سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق دے ۔
__________________________
([1]) أحمد (2/ 460 و 517)، والنسائي في «الكبرى» (298)، وابن خزيمة (140)
([3]) أبو داود (2364)، الترمذي (725)
([4]) مسلم (253)، أبو داود (51)، النسائي (8)، ابن ماجہ (290)
([5]) البخاري (245)، مسلم (255)، أبو داود (55)، ابن ماجہ (286)، النسائي (2)
-
الثلاثاء PM 02:09
2022-04-12 - 1041





