اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

حیض ونفاس کے مسائل

درس کا خلاصہ

حیض اور نفاس دونوں ایک ہی شے ہیں اور انکے احکامات ایک ہی ہیں۔ اس حالت میں عورت حالت جنابت میں ہوتی ہے پاک نہیں ہوتی اور اسے نماز معاف اور روزہ رکھنے کی ممانعت ہے۔ اور خاوند اس حالت والی بیوی سے جماع نہیں کرسکتا۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

حیض ونفاس کے مسائل

 

سید نا انس ابن مالک﷜ فرماتے ہیں کہ یہودیوں کا یہ عالم تھا کہ جب ان کی کوئی  عورت ماہواری سے ہوتی تو اسے اپنے ساتھ بیٹھا کر کھانا بھی نہ کھلاتے اور نہ ہی گھر میں اس کے ساتھ مل جل کر رہتے  نبی کریم ﷺسے اس بارے پوچھا گیا آپ ﷺ نے فرمایا: «اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا النِّكَاحَ» ([1])

’’اس سے مباشرت کے علاوہ سب کچھ جائز ہے۔‘‘

یعنی عورت اگر حائضہ ہو جائے اور اسے  ماہواری آجائے، تو وہ کوئی اور مخلوق نہیں بن جاتی۔وہ بھی انسان ہی ہے۔ اللہ تعالی کا حکم صرف اور صرف یہ ہے: فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ [البقرۃ: 222]

’’حیض کے دنوں میں عورتوں سے الگ رہو۔‘‘

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم بستری کے سوا باقی تمام کام اپنے معمول پر اور روٹین کے مطابق چلیں گے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ﷞  فرماتی  ہیں کہ  جب میں ماہواری سے ہوتی تو نبی کریم ﷺ مجھے حکم دیتے اورمیں ازار باندھ لیتی۔ اس کے بعد آپﷺ مجھ سے مباشرت فرماتے۔ ([2])

عربی زبان میں مباشرت کہتے  ہیں: ایک جسم کا دوسرے جسم کے ساتھ  اور  چمڑے کا دوسرے چمڑے کے ساتھ لگنا۔یعنی بوس و کنار کرتے اور بغل گیر ہوتے۔ معلوم ہوا کہ حالتِ حیض میں  جماع منع ہے۔ اس کے علاوہ کچھ بھی منع نہیں۔

سیدنا عبداللہ ابن عباس ﷜ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس شخص کے بارے جو ماہواری کے دنوں میں  عورت سے جماع کر بیٹھتا ہے ، یعنی وہ کام کر بیٹھتا ہے جس سے روکا گیا ہے، فرمایا: «يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ, أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ» ([3])

’’وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرے ۔‘‘

یہ اس شخص کا کفارہ ہے جو اُن دِنوں میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھتا ہے۔

اللہ سبحانہ وتعالی نے عورتوں کو اُن دِنوں میں،نمازیں معاف کی ہیں۔ نمازوں کی قضائی نہیں ہے۔ روزہ چھوڑنے کا بھی حکم دیا کہ  روزہ نہ رکھے ، لیکن بعد کے دنوں میں رکھے۔ سیدنا ابو سعید خدری ﷜ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:  «أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ؟» ([4])

’’کیا عورت کا معاملہ ایسا ہی نہیں ہے کہ جب وہ حائضہ ہو گی تو نہ روزہ رکھے گی، نہ نماز پڑھے گی؟‘‘

یہ اصول اور قانون ہے۔ لیکن  روزے کی بعد میں وہ قضاء دے گی جبکہ نمازوں کی قضاء نہیں ہے۔ ام المومنین سیدہ  عائشہ صدیقہ ﷞ سے کسی عورت  نے پوچھا کہ کیا وجہ ہےکہ عورت کے ایام میں رمضان کے جو روزے چھوٹ جاتے ہیں، وہ ان کی قضا ء دیتی ہے مگر نمازوں کی قضاء نہیں  دیتی؟ اماں عائشہ﷞ فرمانے لگیں: ’’کیا تو خارجی ہے؟‘‘ (کہ یہ تو خوارج کا نظریہ ہے۔ ان کے مطابق حیض کے دنوں میں چھوڑی ہوئی نمازیں بھی عورت قضاء ادا کرے) نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ہمیں ایام آتے تھے تو ہمیں نمازوں کی قضاءکا حکم نہیں دیا  گیا،جبکہ روزوں کی قضاء کا حکم دیا گیا۔‘‘ ([5])

سیدہ عائشہ صدیقہ﷞ فرماتی ہیں: ’’حجۃ الودع کے موقع پر ہم سفر میں تھے اور حج کے لیے جارہے تھے۔ سَرِف ایک جگہ کا نام ہے، وہاں مجھے ماہواری آگئی تو میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: ’’میں کیا کروں؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا: «اِفْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ, غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي»([6])

’’تو وہ سب کر جو حاجی کرتے ہیں مگر  بیت اللہ کا طواف نہیں کرنا، (کیونکہ طواف کرنے کے لیے باوضو ہونا،طہارت ہونا شرط ہے۔اس لیے فرمایا کہ  صرف بیت اللہ کا طواف نہ کر)بیت اللہ کے طواف کے علاوہ باقی  تمام افعال جو حاجی کرتے ہیں کر، جب تو پاک ہو جائے تو غسل کرکے ، وضو کرکے بیت اللہ کا طواف کر لے۔‘‘

سیدنا عبداللہ بن سعید ﷜ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: ’’عورت جب حیض میں ہو تو مرد کے لیے اپنی بیوی کا کیا کچھ حلال ہے؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا: «مَا فَوْقَ الْإِزَارِ» ([7])

’’ازار سے ، تہبند سے  اوپر اوپر اس کے لئے حلال ہے۔‘‘

اسی طرح بچے کی ولادت کے بعد عورتوں کو جو بلیڈنگ ہوتی ہے اسے نفاس کہا جاتا ہے۔ اس کا حکم بھی حیض والا ہی ہے ۔ ام المومنین  ام سلمہ﷞ بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں عورتیں ڈلیوری کے بعد، بچہ جننے کےبعد، ولادت کے بعد، زیادہ سے زیادہ چالیس دن تک بیٹھتی تھیں۔  ([8])

یعنی اس کی  زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے نفاس کی نمازوں کی قضاء دینے کا حکم نہیں دیا۔ ([9])

نفاس کا حکم بالکل حیض والاہے۔ استحاضہ کی بیماری کا حکم الگ ہے ۔

آج کل مصیبت یہ ہے کہ  چونکہ حدیث میں چالیس دن ،سوا مہینہ کا ذکر آ گیا ہے تو خواتین سمجھتی ہیں کہ شاید  ڈلیوری کے بعد سوا مہینہ ہم نے بیٹھے رہنا ہے، سکون کرنا ہے، حالانکہ ایسی  بات نہیں ہے۔ یہ زیادہ سے زیادہ مدت ہے۔ اس کے بعد اگرخون جاری رہے تو وہ نفاس کا خون شمار نہیں ہوگا، بلکہ استحاضہ کا خون شمار ہوگا اور استحاضہ  والے احکا م اس پر لاگو ہوں گے۔ یعنی وہ غسل کرے اور نمازیں پڑھے۔ نمازوں سے نہ رکے۔ لیکن اگر چالیس دنوں سے پہلے خون ختم ہو جائے، (آج کل اتنا خون ہے کہاں  عورتوں میں کہ جو اتنا زیادہ ہو؟!  جو ہوتا ہے، وہ چند دنوں ، یعنی دو ہفتے اڑھائی ہفتے کے بعد ختم ہو جاتا ہے تو) نفاس کی حالت ختم ہوگئی۔ اس کے بعد وہ غسل کرے اور غسل کرکے نمازیں ادا کرے۔ بےنماز بن کے نہ بیٹھی رہے۔چالیس دن کی مدت زیادہ سے زیادہ ہے۔

____________________________

([1])           مسلم (302)

([2])           البخاري (300)، ومسلم (293)

([3])           أبو داود (264)، والنسائي (153)، والترمذي (136)، وابن ماجه (640)، وأحمد (172)، والحاكم (172)

([4])           البخاري (304)

([5])           البخاري (321)، مسلم (335)

([6])           البخاري (305)، ومسلم (1211) (120)

([7])           أبو داود (213)

([8])           أبو داود (311)، والترمذي (139)، وابن ماجه (648)، وأحمد (6/ 300)

([9])           أبو داود (312)، والحاكم (175)

 

  • الثلاثاء PM 02:20
    2022-04-12
  • 1546

تعلیقات

    = 9 + 2

    /500
    Powered by: GateGold