اعداد وشمار
مادہ
حیض اور استحاضہ کا فرق
درس کا خلاصہ
ماہواری کے خون کے ایام مقرر ہیں۔ان دنوں میں عورت نماز سے رکی رہے گی۔ اس کے علاوہ اگر کسی کی طبیعت بگڑ جا تی ہے اور یہ ایام بڑھ جاتے ہیں تو اچھی طرح جانچ کرے کہ کیا حیض کا خون بگڑا ہے يا رگ سے آنے والا خون ہے؟
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
حیض اور استحاضہ کا فرق
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش استحاضہ کی مریض تھی۔ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس پوچھنے کے لیے آئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ دَمَ الْحَيْضِ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ, فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأَمْسِكِي مِنَ الصَّلَاةِ, فَإِذَا كَانَ الْآخَرُ فَتَوَضَّئِي, وَصَلِّي» ([1])
’’حیض کا (ماہواری کا)خون نسبتاً سیاہ ہوتا ہے اور پہچانا جاتا ہے۔ جب یہ خون ہو ماہواری والا تو پھر نماز سے رک جا۔ اگر اس کے علاوہ اور طرح کا خون ہو تو پھر وضو کر اور نماز پڑھ۔‘‘
پھر نماز سے رکنا نہیں کیونکہ نماز کی معافی صرف خاص دنوں میں خاص خون کی وجہ سےہے۔
سیدہ اسماء بنت عمیس کی روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: «لِتَجْلِسْ فِي مِرْكَنٍ, فَإِذَا رَأَتْ صُفْرَةً فَوْقَ الْمَاءِ, فَلْتَغْتَسِلْ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلًا وَاحِدًا, وَتَغْتَسِلْ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ غُسْلًا وَاحِدًا, وَتَغْتَسِلْ لِلْفَجْرِ غُسْلًا, وَتَتَوَضَّأْ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ» ([2])
’’وہ ایک لگن میں بیٹھ جائیں، جب پانی پر زردی دیکھیں تو ظہر و عصر کے لیے ایک غسل، مغرب و عشاء کے لیے ایک غسل، اور فجر کے لیے ایک غسل کریں، اور اس کے درمیان میں وضو کرتی رہیں۔‘‘
جو خون مقرر ایام میں آتا ہے، اسے حیض کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ اندرونی خرابی کی وجہ سے جو خون آئے، اسے استحاضہ کہتے ہیں۔ یہ ایک بیماری ہے اور اس کا باقاعدہ علاج کیا جاتا ہے اب یہ پہچاننا کہ یہ خون ہے کون سا؟ اس کے لیے بڑے غور سے جانچ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ حیض کے ایام میں عورت نمازیں پڑھ لے اورایسا نہ ہو کہ حیض کے ایام گزر جائیں اور استحاضہ کا خون ہو اور عورت اسے حیض کا خون سمجھ کے نماز پڑھنے سے رکی رہے۔ اس حدیث میں اس کا حل بتایا ہے۔یعنی نماز ادا کرے۔ نماز نہ چھوڑے۔ اگر سیاہی غالب ہوگی تو اس کا مطلب ہے وہ حیض کا خون ہے ان دنو ں وہ نماز چھوڑ دے گی۔
سیدہ حمنہ بنت جحش کہتی ہیں کہ مجھے بڑا شدید قسم کا استحاضہ ہوا تو میں نبی کریم ﷺ کے پاس فتویٰ لینے آئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّمَا هِيَ رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ, فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَيَّامٍ, أَوْ سَبْعَةً, ثُمَّ اغْتَسِلِي, فَإِذَا اسْتَنْقَأْتِ فَصَلِّي أَرْبَعَةً وَعِشْرِينَ, أَوْ ثَلَاثَةً وَعِشْرِينَ, وَصُومِي وَصَلِّي, فَإِنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُكَ, وَكَذَلِكَ فَافْعَلِي كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ, فَإِنْ قَوِيتِ عَلَى أَنْ تُؤَخِّرِي الظُّهْرَ وَتُعَجِّلِي الْعَصْرَ, ثُمَّ تَغْتَسِلِي حِينَ تَطْهُرِينَ وَتُصَلِّينَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرِ جَمِيعًا, ثُمَّ تُؤَخِّرِينَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِينَ الْعِشَاءِ, ثُمَّ تَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ, فَافْعَلِي. وَتَغْتَسِلِينَ مَعَ الصُّبْحِ وَتُصَلِّينَ». قَالَ: «وَهُوَ أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ» ([3])
’’یہ تو شیطان کی طرف سے ایک چوکا ہے (جس کی وجہ سے اندرونی کوئی خرابی پیدا ہو جاتی ہے اور خون جاری ہوجاتا ہے) چھ یا سات دن جس طرح عادت کے مطابق ایام ماہواری کے گزارتی تھی ، اسی طرح چھ ،سات دن گزار، اس کے بعد (اگرچہ خون بند نہ ہو)غسل کر اور نماز ادا کر (نماز ادا کرنے سے رکنا نہیں۔ چھ یا سات دن گزار کر) چوبیس یا تئیس دن کے باقی ایام نماز پڑھ اورروزہ رکھ ۔ تو یہ تجھے کفایت کر جائے گا۔ پھر حیض کے ایام میں ویسے ہی کر جیسے خواتین کرتی ہیں۔ اگر تجھ میں اتنی ہمت ہے کہ ظہر کی نماز کو مؤخر کرکے عصر کی نماز کے ابتدائی وقت میں، دونوں نمازوں کو ایک غسل سے پڑھ لے اور اسی طرح مغرب کو موخر کرکے او ر عشاء کے اول وقت میں غسل کرکے اکٹھی پڑھ لے اور اسی طرح فجر کے لیے غسل کرکے فجر کی نماز پڑھ لے، تو ایسے ہی کرلو۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا: ’’یہ میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کام ہے۔‘‘
اسی طرح سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحشنے نبی کریم ﷺ کو خون کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: «اُمْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ, ثُمَّ اغْتَسِلِي» فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ كُلَّ صَلَاةٍ. ([4])
’’جتنے ایام تک تجھے حیض آتا تھا، اتنے دن رکی رہ۔ اس کے بعد غسل کر۔‘‘ عائشہ فرماتی ہیں کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھی۔
ام عطیہ فرماتی ہیں: ’’طہر کے بعد (یعنی حیض کا خون ختم ہونے کے بعد) کوئی گدلا سا یا سیاہی مائل پانی پڑتا تو ہم اس کو کچھ بھی شمار نہیں کرتے تھے۔‘‘([5])
یعنی نبی کریمﷺ کے زمانے میں اس کی وجہ سے نماز سے نہیں رکتے تھے ۔
عام طور پر ان مسائل کے حوالے سے ناآشنائی اور لا علمی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے خواتین حیض کا خون کے ختم ہونے کے بعد بھی گدلا سا، پیلا یا سیاہی مائل پانی آنے کی وجہ سے ان ایام میں بھی غسل نہیں کرتیں اور نماز چھوڑے رکھتی ہیں۔
مختصریہ کہ یہ ماہواری کے خون کے ایام مقرر ہیں۔ان دنوں میں عورت نماز سے رکی رہے گی۔ اس کے علاوہ اگر کسی کی طبیعت بگڑ جا تی ہے اور یہ ایام بڑھ جاتے ہیں تو اچھی طرح جانچ کرے کہ کیا حیض کا خون بگڑا ہے يا رگ سے آنے والا خون ہے؟ جانچ کرنے کا طریقہ وہی ہے جس طرح نبی کریم ﷺ نے بتایا ہے کہ ٹب میں بیٹھ جائے۔ اگر تو زردی غالب ہے تو پھر اس کا مطلب کہ یہ حیض کا خون نہیں۔ پھر غسل کرے اور نماز پڑھے ۔ اسی طرح ایام مکمل ہو جانے کے بعد جب خون کا اخراج بند ہوجائے تو اس کے بعد اگر کچھ اور گدلا سا پانی یا اس طرح کا کچھ مٹیالا سا نکلتا ہو تو وہ نماز سے روکنے والا نہیں ہے۔ اس پر بھی عورت کو چاہیے کہ غسل کرے اور نماز پڑھے۔
_______________________
([1]) أبو داود (286)، والنسائي (185)، وابن حبان (1348)، والحاكم (174)
([3]) أبو داود (287)، والترمذي (128)، وابن ماجه (627)، وأحمد (6/ 439)
([5]) البخاري (326)، وأبو داود (307)
-
الاربعاء AM 01:13
2022-04-20 - 2044





