اعداد وشمار
مادہ
غسل کے چند مسائل
درس کا خلاصہ
غسل جنابت سے متعلق چند اہم مسائل کی وضاحت
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
غسل کے چند مسائل
سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ جب ثمامہ بن اثال مسلمان ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے انہیں غسل کرنے کا حکم دیا۔ وہ مسجد کے قریب کھجوروں کے باغ میں گئے اورانہوں نے غسل کیا۔ ([1])
یعنی کفر چھوڑ کے جب بندہ اسلام میں داخل ہو تو غسل کرے۔ یہ شریعت کا حکم ہے۔
سیدنا ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «غُسْلُ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ» ([2])
’’ہر بالغ آدمی پر واجب ہے کہ وہ جمعہ کے دن کا غسل کرے۔‘‘
سیدنا سمرہ بن جندب کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ, وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ» ([3])
’’جس نے جمعہ کے دن وضو کیا وہ اچھا ہے (یعنی اس نے اچھا کام کیا ہے) اور جو آدمی غسل کرتا ہے تو غسل والا زیادہ فضیلت والا ہے۔‘‘
یعنی اگر کوئی جمعہ پڑھنے کے لیے آیا ہے اور صرف و ضو کرکے ہی آ گیا ہے تو وضو کرنا بھی اچھا کا م ہے۔ اگر غسل کرکے آئے تو یہ زیادہ فضیلت والا ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے جمعہ کے دن غسل کا حکم دیا ہے اور اسے لازمی قرار دیاہے، اس لیے یہ واجب ہے اور لازمی طور پر جمعہ کے دن کا غسل کرنا چاہیے ۔
اسلام لانے کےبعد غسل ،جمعہ کے دن کا غسل، اور جنابت کا غسل ،یہ فرضی غسل شمار کیے جاتے ہیں۔ جولازم اور ضروری ہیں۔
میت کو غسل دینے والے کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: «مَنْ غَسَّلَ مَيْتًا فَلْيَغْتَسِلْ» ([4])
’’جو آدمی میت کو غسل دیتا ہے، وہ خود بھی غسل کرے۔‘‘
اس کا بھی حکم ہے ، لیکن صحابہ کرام فرماتے ہیں: ’’ہم میت کوغسل دیاکرتے تھے۔ کچھ صحابہ میت کو غسل دینے سے غسل کرتے تھے اور کچھ نہیں کرتے تھے۔‘‘ ([5])
نبی کریم ﷺ کے زمانے میں صحابہ کرام کا عمل تقرری حدیث ہوتا ہے ۔ جب نبی کریم ﷺ اس پر اعتراض نہ فرمائیں ، تووہ بھی حدیث رسول کا درجہ پا جاتا ہے۔یعنی نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں صحابہ کرام نے کوئی عمل کیا اور آپﷺ نے اسے ٹوکا نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ دین کی اس میں رخصت اور اجازت ہے ۔اس لیے میت کو غسل دینے کے بعد غسل کرنا واجب نہیں ۔ لیکن جمعہ کے دن کا غسل واجب ہے اور اسی طرح بندہ جنبی ہو جائے تو بھی غسل کرنا واجب ہے ۔
سیدنا سمرہ بن جندب والی حدیث کی وجہ سے کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اس حدیث میں غسل کو افضل کہا ہے ، لازم نہیں کہا تو معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کے دن اگر بندہ غسل نہ بھی کرے تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن یہ بات درست نہیں ہے ،کیونکہ فرض ہمیشہ افضل ہی ہوا کرتا ہے ۔ سارے اعمال میں سے افضل ترین اعمال وہ ہیں جنہیں اللہ رب العالمین امت پر فرض کردے ۔ فریضے سے زیادہ افضلیت اور کسی عمل کی نہیں ہوتی۔ تو غسل کو افضل قرار دینا اس کی فرضیت کو ختم نہیں کرتا۔
اسی طرح آدمی اگر جنبی ہوگیا یا بیوی سے صحبت کی تو اس کے لیے فی الفور غسل کرنا ضروری نہیں ہے ، بلکہ اگر وہ دوبارہ صحبت کرنا چاہتا ہے ، تب بھی غسل کرنا ضروری نہیں ۔ سیدنا ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: «إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ, ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ بَيْنَهُمَا وُضُوءًا، فَإِنَّهُ أَنْشَطُ لِلْعَوْدِ» ([6])
’’اگر تم میں سے کوئی آدمی اپنی اہلیہ کے پاس جائے اور پھر دوبارہ جانے کا ارادہ کرے تو بہتر ہے کہ وہ دوبارہ جانے سے پہلے وضو کر لے۔ یہ بندے کو دوبارہ بہتر طریقے سے چست کردیتا ہے۔‘‘
یعنی زیادہ سے زیادہ اگر کرنا ہی چاہتا ہے تو وضو کرلے لیکن غسل کرنا ضروری نہیں۔
سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ جنبی ہوتے تو پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سو جاتے۔ ([7])
یعنی افضل اور بہتر ہے کہ بندہ جنابت کی حالت میں اور کچھ کھانا پینا چاہتا ہے یا سوناچاہتا ہے تووضو کرلے۔یہ بہتر ہے، لیکن ضروری نہیں، کیونکہ آپﷺ پانی کو ہاتھ لگائے بغیربھی سو جاتے تھے۔ نیند پوری کرکے جب اٹھتے تو غسل فرمالیتے۔ نبی ﷺ کا عمل بتا رہا ہے کہ فی الفور غسل کرنا ضروری نہیں ۔
اسی طرح ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ کی روایت ہے کہ نبی ﷺ رمضان کی راتوں میں صبح کے وقت حالت جنابت سے ہوتے اور آپ سحری کھاتے اور اس کے بعد آپ ﷺ غسل فرمالیتے۔([8])
نبی کریم ﷺکا عمل اس بات پر واضح ہے کہ کھانا کھانے سے پہلے بندے کا جنابت سے پاک ہونا ضروری نہیں ۔
اسی طرح عام طور پر یہ مسئلہ پوچھا جاتا ہےکہ وہ عورتیں جو بچوں کو دودھ پلاتی ہیں، اگر وہ جنابت کی حالت میں ہوں تو کیاوہ بچے کو دودھ پلا سکتی ہیں ؟ تو اس میں کوئی حرج اورمضائقہ نہیں ۔ حالتِ جنابت میں تمام تر اعمال کرسکتے ہیں، البتہ قرآن مجید کو چھونا منع ہے۔ نبی کریم ﷺ نے عمرو ابن حزم کی طرف جو خط لکھا تھا، اس میں تھا: «أَنْ لَا يَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ» ([9])
’’قرآن کو صرف پاکیزہ ہی ہاتھ لگائے۔‘‘
اور حائضہ عورت اور جنبی مرد اور عورت پاک نہیں ہوتے۔حائضہ کے بارے میں اللہ نے کہا ہے: وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ [البقرۃ: 222]
’’ان کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہو جائیں۔ حیض سے پاک ہونے کے بعد جب وہ طہارت حاصل کر لیں ، پھر ان کے پاس جاؤ جیسا اللہ نے حکم دیا ہے۔‘‘
اور جنبی کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے: وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا [المائدۃ: 6]
’’اگر تم حالت جنابت میں ہو تو طہارت حاصل کرو۔‘‘
حائضہ اور جنبی کو طہارت حاصل کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ حائضہ اور جنبی طاہر نہیں اور جو طاہر نہیں، اس کے لیےقرآن مجید کو چھونا منع ہے۔ قرآن کو چھونے کے علاوہ تمام افعال سرانجام دئیے جاسکتے ہیں۔ کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔
_________________________
([1]) البخاري (4372)، ومسلم (1764)، ومصنف عبد الرازق (6/ 9 - 10/ 9834)
([2]) البخاري (879)، ومسلم (846)، وأبو داود (341)، والنسائي (3/ 92)، وابن ماجه (1089)، وأحمد (3/ 60)
([3]) أبو داود (354)، والترمذي (497)، والنسائي (3/ 94)، وأحمد (51 و 15 و 22)
([4]) أحمد (7675)، والترمذي (993)
([5]) دارقطني (1820)، والبیھقي (1466)
([6]) مسلم (308)، ومستدرك الحاكم (152)
([7]) أبو داود (228) والنسائي في «الكبرى»، والترمذي (118 و 119)، وابن ماجه (583)
([8]) البخاري (4/ 143 / فتح)، ومسلم (1109)
-
الاربعاء AM 01:57
2022-04-20 - 1210





