اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

غسل جنابت کا طریقہ

درس کا خلاصہ

غسل جنابت کا مسنون طریقہ



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

غسل جنابت کا طریقہ

 

سیدہ عائشہ صدیقہ﷞ کہتی ہیں: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ, ثُمَّ يُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ, فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ, ثُمَّ يَتَوَضَّأُ, ثُمَّ يَأْخُذُ الْمَاءَ, فَيُدْخِلُ أَصَابِعَهُ فِي أُصُولِ الشَّعْرِ, ثُمَّ حَفَنَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ, ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ, ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ» ([1])

’’جب نبی ﷺ غسل جنابت فرماتے تو   آغاز کرتے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوتے۔پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنی شرمگاہ کو دھوتے۔اس کے بعد وضو کرتے۔ ازاں بعد پانی لے کر انگلیوں کوبالوں کی جڑوں میں داخل کرتے۔پھر سر پر تین چلو پانی کے ڈالتے۔ پھر سارے جسم پر پانی بہاتے۔ اس کے بعد اپنے پاؤں دھوتے۔‘‘

 ام المومنین سیدہ عائشہ ﷞اور ام المومنین ام سلمہ ﷞دونوں نے نبی کریم ﷺ کے غسل کا طریقہ کار بیان کیا ہے۔ ایسے ہی سیدہ میمونہ ﷞ نے بھی غسل کا طریقہ بیان کیاہے۔ سیدہ میمونہ ﷞کی روایت میں بھی غسل کا تقریباً یہی  طریقہ کار ہے۔ اس میں یہ الفاظ ہیں، کہتی ہیں: «ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى فَرْجِهِ, فَغَسَلَهُ بِشِمَالِهِ, ثُمَّ ضَرَبَ بِهَا الْأَرْضَ.» وَفِي رِوَايَةٍ: «فَمَسَحَهَا بِالتُّرَابِ.» وَفِي آخِرِهِ: «ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِالْمِنْدِيلِ، فَرَدَّهُ, وَفِيهِ: وَجَعَلَ يَنْفُضُ الْمَاءَ بِيَدِهِ.» ([2])

’’دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا  اور بائیں ہاتھ سے استنجاء کیا  یعنی  پانی ڈالا اور شرمگاہ  کو دھویا۔ پھر اس بائیں ہاتھ کو زمین پر مارا ، اس کو مٹی لگائی۔‘‘ایک روایت میں ہے: ’’مٹی کے ساتھ اس ہاتھ کو رگڑا۔‘‘ پھر میمونہ ﷞ کی  ہی ایک اور روایت ہے: ’’جب نبی کریم ﷺ غسل فرما چکے تو میں تولیہ لے کر آپ کے پاس آئی تو آپ ﷺ نے وہ قبول نہیں کیا بلکہ مجھے  واپس کردیا (کہ گرمیوں کے موسم میں تولیے کی ضرورت نہیں) اور  اپنے ہاتھوں کے ساتھ پانی جھاڑنے لگے۔‘‘

 اسی طرح ام سلمہ ﷞ فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: ’’اللہ کے نبی!  میں ایسی عورت ہوں کہ اپنے سر کے بالوں کو بہت اچھی طرح باندھتی ہوں، چٹیا کرتی ہوں۔کیا میں غسل جنابت کرنے کے لیے سر کے بال کھول دوں ؟ تونبی ﷺ نے فرمایا: «لَا, إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ» ([3])

’’نہیں،تیرے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تو اپنے سر پر تین چلو پانی کے ڈال لے ۔‘‘ (چٹیا کھولنے کی ضرورت نہیں ہے۔)

اسی طرح ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ﷞کہتی ہیں کہ میں اور نبی کریم ﷺ اکٹھے ایک ہی برتن سے غسل جنابت کرتے ۔  ایک ہی برتن میں پانی ہوتا، اسی میں  ہم دونوں اکٹھے غسل جنابت کرتےاور ہاتھ ہمارے مختلف ہوتے۔ یعنی کبھی آپ پانی لے لیتے، کبھی میں۔([4])

تو یہ طریقہ کار ہے  اختصار کے ساتھ ، تفصیل کے ساتھ بھی  ذکر ہوا ہے مثلاً ایک روایت میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نماز کے وضو جیسا وضو کیا۔([5]) اس کی پوری تفصیل بھی ذکر کی ہے ام سلمہ ﷞ اور سیدہ عائشہ صدیقہ﷞ نےکہ آپﷺ نے استنجاء کرنے کے بعد ، شرمگاہ کو دھونے کے بعد ، ہاتھ دھوئے، کلی کی ،ناک میں پانی چڑھایا ،ناک کو جھاڑا،پھر چہرہ دھویا ،وضو کے طریقے کے مطابق،داڑھی کا خلال بھی اس میں شامل ہے پھر بازو دھوئے انگلیوں کا خلال  بھی اس میں شامل ہے۔ فرماتی ہیں: «حَتَّى إِذَا بَلَغَ رَأْسَهُ لَمْ يَمْسَحْ وَأَفْرَغَ عَلَيْهِ الْمَاءَ» ([6])

’’(نماز کے طریقے کے مطابق وضو کرتے کرتے) جب سر کی باری آئی (اور سر کا مسح کرنا تھا) تو سر کا مسح نہیں کیا۔ (بلکہ کیا کیا؟) سر پر پانی بہایا۔‘‘

«ثُمَّ غَسَلَ جَسَدَهُ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ» ([7])

’’اس کے بعد اپنے سارے بدن پر پانی بہایا۔ پھر جہاں پہ  آپﷺ نے غسل کیا تھا، وہاں سے الگ ہوئے  اور اپنے پاؤں دھو لیے۔‘‘

اب  یہاں پر کچھ لوگ  یہ کہتے ہیں: ’’وہاں  نکاس کا بندوبست نہیں تھا ، پانی کھڑا ہو جاتا تھا، اس لیے آپ ﷺ وہاں سے ہٹ کے سائیڈ پر جا کر اپنے پاؤں دھوئے ۔‘‘  

ایسی کوئی بات نہیں۔یہ نبی کریم ﷺ کے غسل کا طریقہ ہے، جو آپﷺ نے اپنایا ہے۔ اسے ہی اپنایا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کون سا دس گیلن پانی سے نہاتے تھے ہماری طرح، وہ تو  بمشکل دو لیٹر، سوا دو لیٹر پانی ہوتا تھا جس سے غسل فرما لیتے تھے۔ اب اتنے سے پانی نے کہاں کھڑے ہونا ہے ؟ اوروہ سیانے اور سمجھدار لوگ تھے۔ کھڑے ہونے کے لیے  پتھر رکھ کر جگہ اونچی بنا لیتے تھے  ۔تو یہ خواہ مخواہ   کی تاویلیں ہیں ۔

نبی کریم ﷺ  کا طریقہ ہے کہ جہاں پر آپﷺ نے غسل کیا ہے، وہاں سے ہٹ کے آپﷺ نے پاؤں دھوئے ۔تو  جہاں پہ آپ غسل کریں، وہاں سے ہٹ کے ، غسل خانے سے باہر نکل کر پاؤں دھو لیں۔ یا آج کل غسل خانے ہی بڑے لمبے چوڑے بنے ہوتے ہیں  تو غسل خانے میں  شاور کے نیچے غسل کیا ہے، اب سائیڈ پہ ہوکے  پاؤں دھو لیں۔اس جگہ پہ پاؤں  نہیں دھونے ۔ یہ نبی کریمﷺ  کی سنت اور آپ کا طریقہ کا ر ہے ، یہ نبی ﷺ کا غسل ہے ۔

مختصر یہ کہ نماز کے  وضو کے طریقے کے مطابق   پہلے تو اپنے ہاتھو ں کو دھونا ہے۔ جہاں گندگی لگی ہے، اس  کو دھونا ہے ۔ پھر نماز کے طریقے کے مطابق سارا وضو کرنا ہے ۔ بازو دھونے تک سارا وضو ویسے ہی جیسے نماز کے لیے کرتے ہیں۔ اس  کے بعد جب سر کی باری آئے گی ، پھر مسح نہیں کرنا ۔ یہاں سے پھر ترتیب بدل جائے گی ۔ مسح کرنے کے بجائے سر پہ تین دفعہ پانی ڈالنا ہے ، اگر بال گھنے ہیں۔ جس طرح  اس روایت میں آیا ہے  کہ آپ نے انگلیوں کو پہلے تر کیا۔ انگلیاں تر کرکے بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچایا تاکہ سر پہ پانی ڈالتے وقت پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔ اچھی طرح سے پانی  سر پہ ڈالا۔ صحیح بخاری کے اندر مزید وضاحت ہے  آپ ﷺ نے سر پر پانی  کے تین چلو ڈالے۔ پہلا دائیں طرف، دوسرا بائیں طرف اور تیسرا سر کے درمیان میں۔([8]) یہ طریقہ ہے نبی ﷺ کا سر پر پانی ڈالنے کا۔ اس کے بعد پھر سارے جسم کو دھو لیں۔اس میں  بھی اگر وہی ترتیب رکھیں کہ پہلے دائیں جانب کو دھوئیں، پھر بائیں جانب کو ،تو بہتر ہے۔ پھر بعد میں وہاں سےہٹ کے پاؤں دھو لیں۔جنابت کے لیے غسل کرنا ہو یا ویسے  غسل کرنا ہو جیسے جمعہ کے لیے   غسل کیا جا تا ہے ، غسل کا طریقہ کار یہی اپنائیں، اور غسل کی روٹین اور معمول یہی  رکھیں۔

اللہ تبارک وتعالیٰ سمجھنے  اور عمل کرنے کی توفیق دے۔

_____________________

([1])           البخاري (248)، ومسلم (316)

([2])           البخاري، (249)، ومسلم (317)

([3])           مسلم (330)

([4])           البخاري (261)، ومسلم (321) (45)

([5])           البخاري (248)

([6])           النسائي (422)

([7])           البخاري (274)

([8])           البخاري (258)

  • الاربعاء AM 02:03
    2022-04-20
  • 1277

تعلیقات

    = 2 + 2

    /500
    Powered by: GateGold