اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

تیمم کا طریقہ اور مسائل

درس کا خلاصہ

تیمم کا طریقہ، غسل اور وضوء دونوں کی جگہ تیمم کا کفایت کرنا، بیمار آدمی کے لیے تیمم کی رخصت



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

تیمم کا طریقہ اور  مسائل 

 

سیدنا عمار ابن یاسر ﷜ کی روایت  صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے: «بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَأَجْنَبْتُ، فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ : " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ بِيَدَيْكَ هَكَذَا ". ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ الْأَرْضَ ضَرْبَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ مَسَحَ الشِّمَالَ عَلَى الْيَمِينِ، وَظَاهِرَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ» ([1])

کہ  مجھے  نبی کریم ﷺ نے کسی کام سے بھیجا تو میں جنبی ہوگیا۔ مجھے پانی نہ ملا ، تو میں مٹی میں ایسے لت پت ہوا جس طرح  جانور مٹی میں لت پت ہوتا ہے۔ پھر یہ بات میں نے نبی کریم ﷺ کے سامنے ذکر کی آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تجھے اتنا ہی کافی تھا تو اپنے ہاتھوں کو اس  طرح کرتا۔‘‘ اور نبی کریم ﷺ نے یہ کہہ کر اپنے  دونوں ہاتھوں کو ایک  مرتبہ زمین پر مارا۔ پھر بائیں ہاتھ  کو دائیں  ہاتھ پر پھیرا اور اس کے بعد دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر پھیر کر بائیں ہاتھ کا مسح کیا۔ پھر اس کے بعد دونوں  ہاتھوں سے چہرے  کا مسح کیا۔‘‘

  یہ تیمم کا طریقہ  کار بتایا کہ دونوں  ہاتھوں کو زمین پر مار کر  پہلے دائیں ہاتھ کا مسح، اس کے بعد بائیں ہاتھ پر مسح، اس کے دونوں  ہاتھ چہرے پر پھیرنے ہیں۔ اسی طرح  بخاری کی ایک روایت میں ہے: ’’وَضَرَبَ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ، وَنَفَخَ فِيهِمَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ.‘‘ ([2])

’’دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارا ، پھر ان پر پھونک ماری (مٹی زیادہ لگ جائے، تو پھونک مارو) پھر دونوں ہاتھوں سےہاتھوں اپنے چہرے کا اور ہتھیلیوں کا  مسح کیا ۔ ‘‘

اسی  طرح  ابو ہریرہ ﷜ کی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ  نے فرمایا: «الصَّعِيدُ وُضُوءُ الْمُسْلِمِ، وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ، فَإِذَا وَجَدَ الْمَاءَ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ، وَلْيُمِسَّهُ بَشَرَتَهُ» ([3])

’’صعید (گردو غبار و الی مٹی) مسلمان آدمی کا وضو ہے۔ اگرچہ اسے دس سال تک پانی نہ ملے۔ لیکن جب پانی مل جائے،پھر اللہ سے ڈرے (یعنی پانی کی موجودگی میں وہ تیمم نہ کرتا پھرے بلکہ) اپنے چمڑے کو پانی لگائے۔‘‘ (مطلب وضو کرے یا غسل کرے۔)

صعید اس مٹی کو کہتے ہیں جو گرد بن کر اوپر اڑتی ہے ۔مٹی کا ڈھیلا جو جامد ہوتا ہے، وہ صعید نہیں ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بھی قرآن مجید میں تیمم کے لیے حکم دیتے ہوئے کہا ہے: ‹فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا› [النساء: 43، المائدۃ: 6]

’’پاکیزہ گردو غبار ،صعید طیب سے تیمم کرو۔‘‘

اسی طرح  ایک روایت میں ہے:  ’’خَرَجَ رَجُلَانِ فِي سَفَرٍ، فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ - وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَاءٌ - فَتَيَمَّمَا صَعِيدًا طَيِّبًا، فَصَلَّيَا، ثُمَّ وَجَدَا الْمَاءَ فِي الْوَقْتِ. فَأَعَادَ أَحَدُهُمَا الصَّلَاةَ وَالْوُضُوءَ، وَلَمْ يُعِدِ الْآخَرُ، ثُمَّ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَذَكَرَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ: «أَصَبْتَ السُّنَّةَ وَأَجْزَأَتْكَ صَلَاتُكَ» وَقَالَ لِلْآخَرِ: «لَكَ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ» ([4])

نبی کریم ﷺ نے دو آدمیوں  کو بھیجا،نماز کا وقت تھا تو پانی ان کے پاس موجود نہیں تھا۔ ان دونوں نے تیمم کیا۔ تیمم کرکے نماز پڑھی   تو ابھی نماز کا وقت باقی ہی تھا کہ انہیں سفر کے دوران پانی مل گیا۔ تو ان میں سے ایک نے وضو کیا اوروضو کرکے نماز دہرا لی۔دوسرے نے نہ دہرائی۔ یہ دونوں نبی کریم ﷺ  کے پاس آئے۔ اپنا ماجرا سنایا۔  رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کو جس نے نماز دہرائی نہیں ، تیمم کے ساتھ نماز پڑھی اور اسی پر اکتفا کیا، اسے فرمایا: ’’تو نے سنت کے مطابق کا م کیا ہے۔‘‘ (کہ سنت یہی ہے کہ بندے کے پاس پانی نہ ہو، نماز کا وقت ہو، پانی نہیں مل رہا، بندہ تیمم کرکے نماز پڑھ لے، اس کے بعد وقت کے دوران ہی اگر پانی مل جاتا ہے تو نماز دہرانے کی ضرورت نہیں ہے) اور وہ بندہ جس نے دو مرتبہ نما ز پڑھی تھی، ایک مرتبہ تیمم کرکے اور ایک مرتبہ جب پانی ملا، اس نے دوبارہ وضو کیا اور نماز اداکی، آپﷺ نے اسے کہا: ’’تیرے لیے دو مرتبہ اجر ہے۔‘‘ (چونکہ علم نہیں تھا تو دو مرتبہ نماز پڑھ لی تو اجر تجھے دو مرتبہ مل جائے گا مگر یہ طریقہ سنت نہیں ہے ، سنت طریقہ کیا ہے کہ تیمم کرکے نماز پڑھ لی تو دوبارہ دہرانے کی ضرورت نہیں ۔)

ابن عباس کی روایت ابوداؤد ، نسائی وغیرہ میں  ہے، وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے فرمان: ‹وَاِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰٓى اَوْ عَلٰي سَفَرٍ› [النساء: 43] ’’اور اگر تم بیمار ہو یا مسافر ہو۔‘‘ کی تفسیر میں کہتے ہیں: «إِذَا كَانَتْ بِالرَّجُلِ الْجِرَاحَةُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْقُرُوحُ، فَيُجْنِبُ، فَيَخَافُ أَنْ يَمُوتَ إِنْ اِغْتَسَلَ: تَيَمَّمَ»([5])

’’جب بندے کو  کوئی جراحت ہو، زخم لگا ہو اور وہ جنبی ہو جائے، اب اس بات کا خدشہ ہو کہ اس  نے غسل کیاتو مر جائے گا یا یوں کہیے کہ بیماری بڑھ  سکتی ہے تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ تیمم کرے۔‘‘

پہلے یہ بات تھی کہ جب پانی  نہ ملے تو تیمم کرے، اب یہ ہے کہ  پانی موجود ہے  لیکن بیمار ہے اور بیماری ایسی ہے کہ جس میں اگر پانی استعمال کرے تو اس کی جان جانے کا خطرہ یا بیماری بڑھ جانے کا خدشہ ہے تو وہ تیمم کر سکتا ہے ،تیمم اسے کفایت کر جائے گا  ۔

ایک  تو تیمم کا طریقہ بیان ہوا کہ  دونوں ہاتھوں کو گرد وغبار والی مٹی پر ایک  مرتبہ  مارا، پھر بائیں ہاتھ  کو دائیں  ہاتھ پر پھیرا اور اس  کے بعد دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر پھیر ا، پھر اس کے بعد دونوں  ہاتھوں سے چہرے  کا مسح  کیا۔ اگر چہرے کا مسح پہلے کر لیں، بعد میں ہاتھوں کا مسح کرلیں، یہ بھی ٹھیک ہے، یہ بھی حدیث صحیح بخاری کے اندر موجود ہے۔

دوسری بات یہ کہ  تیمم اس وقت کرنا ہے جب پانی نہ ملے یا پانی موجود ہے، لیکن پانی استعما ل کرنے سے اس کے بیمار ہونے کا خدشہ یا موت کا خطرہ ہے پھر بھی وہ تیمم کر سکتا ہے۔

اور اگر تیمم کے ساتھ بندہ اگر نما ز ادا کر لے تو وہ اس کو کفایت کر جائے گی۔

تیمم وضو سے بھی کفایت کرتا ہےاور غسل سے بھی۔  غسل بندے پر فرض ہو ، حالت جنابت ہو، پانی نہیں ملا تیمم کرلے تو بھی طہارت حاصل ہوجائے گی۔ اسی طرح وضو اس نے کرنا ہے نماز ادا کرنے کے لیے پانی نہیں ہے تیمم کر لے تو وہ نمازادا کرسکتا ہے ،رخصت ہے،  دین کے اندر جتنی بھی رخصتیں ہیں، ان کے اندر یہی قانون ہے :بوقتِ ضرورت، بقدرِ ضرورت۔

جس کو بیماری بڑھنے کا  یا موت کا خدشہ تھا  اس نے تیمم کیا، پھر یہ خدشہ ختم ہوگیا، اب اس کے بعد اس کے لیے تیمم کرنا جائز نہیں رہے گا۔

اسی طرح جس نے تیمم کرکے نماز پڑھی کہ اس کے پاس پانی نہیں ہے تو جب پانی میسرآجائے تو پھر اس کے بعد اس کے لیے تیمم کرنا جائز نہیں رہے گا ۔

 

_______________________________

([1])           البخاري (347)، ومسلم (368)

([2])           البخاري (338)

([3])           البزار (310 زوائد)

([4])           أبو داود (338)، والنسائي (113)

([5])           والموقوف رواه الدارقطني (177/ 9) والمرفوع رواه ابن خزيمة (272)، والحاكم (165)

  • الاربعاء AM 02:29
    2022-04-20
  • 2082

تعلیقات

    = 5 + 1

    /500
    Powered by: GateGold