اعداد وشمار
مادہ
مریض کے لیے تیمم
درس کا خلاصہ
ایسا مریض جسے وضو کرنے سے یا غسل کرنے سے زیادہ بیمار ہونے کا یا مر جانے کا اندیشہ ہو ، شریعت نے اس کے لیے تیمم کی رخصت رکھی ہے ۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
مریض کے لیے تیمم
سیدناجابر ابن عبداللہ کہتے ہیں: ’’ہم سفر میں تھے تو ہم میں سے ایک آدمی کو سر میں پتھر لگا جس سے اس کا سر پھٹ گیا اور وہ زخمی ہو گیا۔ اب اس کے بعد ایک دن اس کو احتلام ہو گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا : سر زخمی ہے، سر میں پانی نہیں ڈالا جاسکتا تو کیا مجھے تیمم کرنے کی کوئی رخصت تمہیں معلوم ہے؟ انہوں نے کہا: ہم تیرے لیے کوئی رخصت نہیں پاتے کہ سر زخمی ہے اورتو غسل کی جگہ تیمم کرلے۔ یہ رخصت ہمیں کہیں نہیں ملی۔ چونکہ پانی موجود ہے اور قرآن میں یہ ہے کہ اگر پانی نہ ملے تو پھر تیمم کرو۔ اس نے غسل کیا، سر میں پانی پڑا، بیماری بڑھی اور وہ فوت ہوگیا ۔ کہتے ہیں: جب ہم نبی کریم ﷺ کے پاس تشریف لائے اور آپﷺ کو اس کے بارے میں بتایا گیا تو آپﷺ نے فرمایا: «قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ أَلَا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ»([1])
’’انہوں نے اسے مار دیا، اللہ انہیں مارے۔ جب ان کو پتہ نہیں تھا تو انہوں نے پوچھا کیوں نہیں؟ لاعلمی اور جہالت کا علاج پوچھ لینا ہے۔ جسے نہیں پتہ، وہ سوال کرے تاکہ اس کی جہالت ختم ہو جائے۔‘‘
یہ حسن درجے کی روایت ہے ۔اس حدیث سے دو باتیں بڑی واضح طور پر سمجھ آتی ہیں:
ایک تو یہ کہ ایسا مریض جسے وضو کرنے سے یا غسل کرنے سے زیادہ بیمار ہونے کا یا مر جانے کا اندیشہ ہو ، شریعت نے اس کے لیے تیمم کی رخصت رکھی ہے ۔
دوسری اہم بات جو اس حدیث میں ہے کہ جب کسی کو کسی بات کا یقینی طور پر علم نہ ہو تو وہ بات بیان نہ کرے ۔ ہمارے ہاں یہ بیماری عام طور پر پائی جاتی ہے۔ کسی مسئلے کا علم نہیں ہے لیکن ٹانگ ضرور اڑانی ہے اس میں۔ کچھ نہ کچھ ضرور کہنا ہے ۔ ہر بندہ ہی طبیب ہے۔ ہر بندہ ہی مفتی ہے ،یہ ہمارے معاشرے کی بڑی بیماری ہے حتیٰ کہ ایسے بھی ہوتا ہے کہ کسی صاحب علم سے کوئی بندہ مسئلہ پوچھ رہا ہے توساتھ بیٹھا ہوا آدمی، جو بھی موجود ہو، مولوی صاحب نے جو جواب دینا ہے، سو دینا ہے ، پاس بیٹھے ہوئے اپنے مشورے اور جواب دینا شروع کردیتے ہیں۔یہ طریقہ کار غلط ہے۔ لاعلمی اور جہالت کا علاج ہے: سوال کرنا،پوچھنا ۔بندہ پوچھے۔ پوچھ کر پورے یقین سے عمل کرے۔ اور اگر کسی نے آپ سے آپ کو بہتر سمجھتے ہوئے پوچھ لیاتو جس بات کا سو فیصد یقین ہے، پکا پتہ ہے ، وہ تو بتائیں۔اور جس کے بارے میں مکمل یقین کے ساتھ علم نہیں ہے، اس کے بارے میں خاموش رہیں اور کسی ایسے بندے کی طرف رہنمائی کریں جو اس بات کو اچھی طرح سے سمجھتا ہو۔
اس واقعہ میں ہوا یہ کہ انہوں نے اسے فتویٰ دے دیا کہ تیرے لیے تو تیمم کی رخصت نہیں ہے۔ اس بیچارے کو احتلام ہو گیا تھا اور اس نے غسل تو کرنا تھا نماز پڑھنے کے لیے۔ چنانچہ اس نے غسل کیاتو زخم میں پانی چلا گیا اور وہ زیادہ خراب ہو گیا، جس سے آخر اس کی وفات ہو گئی ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’انہوں نے اسے مار دیا، اللہ انہیں مارے ۔‘‘
کس قدر سخت جملہ نبی کریم ﷺ نے کہا ہے!
_______________
-
الاربعاء AM 02:37
2022-04-20 - 1150





