اعداد وشمار

14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

سجدے کی دعائیں

درس کا خلاصہ

سجدے میں پڑھنے کے لیے چند مسنون دعائیں



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

سجدے کی دعائیں

محمد رفیق طاہر کان اللہ لہ

سیدنا عبداللہ ابن عباس ﷜ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«أَلَا وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا, فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ, وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ, فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ» ([1])

’’خبردار! مجھے سجدے اور رکوع میں قرآن  پڑھنے سے  منع کیاگیا ہے۔ رکوع میں اپنے رب کی تعظیم بیان کرو اور سجدہ میں کوشش کرکے زیادہ سے زیادہ دعا مانگو۔ قریب  ہے تمہاری سجدے میں کی گئی دعا  قبول کرلی جائے۔‘‘

اس حدیث میں نبی ﷺ  نے ایک تو یہ بات سمجھائی ہے کہ سجدے میں قرآن نہیں پڑھنا ۔

 قرآن مجید فرقان حمید میں بھی بہت سی دعائیں  اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ذکر کی ہیں۔ اہل ایمان کی دعائیں اور انبیاء کرام کی  دعائیں ، بڑی اعلیٰ اور عمدہ  دعائیں ہیں۔ لیکن رکوع کی حالت میں اور سجدے کی حالت میں  قرآن پڑھنا منع ہے تو قرآنی دعا بھی تو قرآن ہی ہے،اس لیے یہ نہیں پڑھ سکتے۔ نماز میں قران والی دعا صرف تشہد میں پڑھ سکتے ہیں درود کے بعد۔ جیسے: ‹رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِيْمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ* رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاۗءِ* رَبَّنَا اغْفِرْلِيْ وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُ*›  یہ دعا سلام سے پہلے پڑھتے ہیں۔ اس موقع پر ٹھیک ہے۔ لیکن سجدے میں نہیں۔ فرمایا: ’’مجھے سجدے میں  قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔‘‘

 دوسری  بات یہ سمجھائی ہے کہ رکوع میں اللہ کی  تعظیم ،اور  سجدے میں کوشش کرکے کسی بھی قسم کی دعا ،چاہے وہ مسنون  دعاؤں میں سے ہو یا اپنا کوئی مطالبہ ، جو اللہ سےکرنا ہے، وہ مطالبہ اللہ سے رکھناہے۔ نماز کے سجدے میں عربی زبان میں کرے۔پھر بہت سی دعائیں ایسی ہیں  جو نبیﷺ سے ثابت ہیں، وہ سجدے میں پڑھیں۔ جیسا کہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ﷞ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع میں اور سجدے میں اکثر کہا کرتے تھے :  

«سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ, اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي» ([2])

’’اے اللہ! تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے۔ اے ہمارے رب! مجھے معاف کردے۔‘‘ 

اماں عائشہ﷞فرماتی ہیں: «يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ»

’’نبی کریم ﷺ قرآن کی تاویل کرتے تھے ۔‘‘

یعنی  اللہ نے سورۃ النصر میں حکم دیا تھا:

 فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْہُ › [النصر: 3]

’’اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کراور اس سے بخشش طلب کر۔‘‘

اللہ کے نبی ﷺ اس کی تاویل (یعنی تعمیل) کی۔

 تو یہ نبی ﷺ کی اکثر دعا ہوتی تھی رکوع میں بھی اور سجدے میں بھی ۔

سیدنا ابو ہریرہ ﷜ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنے سجدے میں یہ دعا کیا کرتے تھے:

«اللهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ دِقَّهُ، وَجِلَّهُ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ وَعَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ» ([3])

’’  اے اللہ! میرے گناہ معاف کردے ، سارے کے سارے ، چھوٹے بھی اور بڑے بھی  پہلے  گناہ بھی اور آخری  گناہ بھی ، ظاہری بھی اور پوشیدہ  بھی۔‘‘

 یعنی  ہر قسم کے گناہ  معاف فرما دے۔ یہ بہت زبردست دعا ہے جو سجدے میں  نبی ﷺکیا کرتے تھے۔

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ﷞ کی روایت فرماتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کو تلاش کیا۔ آپﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے اندھیرے میں ٹٹولا  تو آپﷺ گھر میں تہجد نماز پڑھ رہے تھے۔ نظر نہیں آ رہے تھے۔ میرا ہاتھ آپﷺ کے دونوں پاؤں پر لگا۔ آپ کے دونوں پاؤں کھڑے تھے اور آپ سجدے میں دعا کررہے تھے:

«اللهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» ([4])

’’اے اللہ! تیرے غصے اور تیری ناراضگی سے بچنے کے لیے میں تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں اور تیری سزا سے بچنے کے لیے  تیری عافیت کی پناہ چاہتا ہوں  اور تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں تیرے  عذاب سےاور تیری گرفت سے بچنے کےلیے۔ میں ویسے  تیری ثناء بیان نہیں کر سکتا، شمار نہیں کرسکتا جیسے تو نےاپنی ثناء خود بیان کی ہے۔‘‘

یہ رسول اللہ ﷺ سجدے میں دعا کرتے تھے اس کے علاوہ اور بھی بہت سی دعائیں ہیں جو اللہ کے نبی سجدے میں کیا کرتے تھے ۔

کوشش کرنی چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ   دعائیں یاد کریں اور سجدےمیں  بکثرت  دعا  کریں کیونکہ نبی ﷺ کا حکم ہے:  «فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ» ([5])

’’کوشش کرکے بندہ زیادہ سے زیادہ دعا کریں ۔‘‘

 

 __________________

سجدہ کی دعائیں 2

سیدنا ابو ہریرہ  ﷜ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سجدے میں یہ دعا  کیا کرتے تھے:

«اللهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ دِقَّهُ، وَجِلَّهُ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ وَعَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ» ([6])

’’اے اللہ! میرے سارے گناہ معاف کردے۔ چھوٹے چھوٹے بھی اور بڑے بڑے  بھی۔  پہلے بھی اور  آخری بھی۔ ظاہر ی بھی اور پو شیدہ بھی۔ ہر قسم کے میرے گناہ معاف کردے ۔ ‘‘

یہ دعا نبی ﷺ سجدے میں کیا کرتے تھے ۔ اور یہ استغفارکے لیے بڑی جامع اور بہترین دعا ہے۔

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ﷞ کی روایت فرماتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کو تلاش کیا۔ آپﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے اندھیرے میں ٹٹولا  تو آپﷺ گھر میں تہجد نماز پڑھ رہے تھے۔ نظر نہیں آ رہے تھے۔ میرا ہاتھ آپﷺ کے دونوں پاؤں پر لگا۔ آپ کے دونوں پاؤں کھڑے تھے اور آپ سجدے میں دعا کررہے تھے:

«اللهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» ([7])

’’اے اللہ! تیرے غصے اور تیری ناراضگی سے بچنے کے لیے میں تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں۔ اور تیری سزا سے بچنے کے لیے  تیری عافیت کی پناہ چاہتا ہوں۔ اور تیرے  عذاب سےاور تیری گرفت سے بچنے کےلیے میں تیری ہی پناہ چاہتا ہوں۔میں ویسےتیری ثناءبیان نہیں کر سکتا، شمار نہیں کرسکتا جیسے تو نےاپنی ثناء خود بیان کی ہے۔‘‘

 رسول اللہ ﷺ سجدے میں یہ دعا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی دعائیں ہیں جو اللہ کے نبی سجدے میں کیا کرتے تھے ۔

سیدنا حذیفہ ﷜ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سجدے میں کہتے:

«سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» ([8])

’’میرا رب پاک ہے جو سب سے اعلیٰ ہے  ۔‘‘

نبی ﷺ نے سجدے میں زیادہ سے زیادہ دعا مانگنے کا کہا ہے۔ اور فرمایا کہ بندہ سجدے میں اللہ کے قریب ترین ہوتاہے۔([9])

 تو سجدے میں جو دعا بندہ کرتاہے اللہ اس کی دعا ضرور سنتاہے۔([10]) ہاں قرآن پڑھنا سجدے میں منع ہے ۔([11])

_____________________________________

([1])           مسلم (479)

([2])           البخاري (817)، ومسلم (484)

([3])           مسلم (483)

([4])           مسلم (486)

([5])           مسلم (479)

([6])           مسلم (483)

([7])           مسلم (486)

([8])           مسلم (772)

([9])           مسلم (482)

([10])          مسلم (479)

([11])          أیضاً

  • الاربعاء PM 09:46
    2023-02-08
  • 4980

تعلیقات

    = 9 + 1

    /500
    Powered by: GateGold