تازہ ترین
حالت حیض میں طلاق => مسائل طلاق طلاق کی عدت => مسائل طلاق بدعی طلاق => مسائل طلاق حالت نفاس میں طلاق => مسائل طلاق بیک وقت تین طلاقیں => مسائل طلاق مباشرت کے بعد طلاق => مسائل طلاق اللہ تعالیٰ کی معیت => مسائل عقیدہ ایک مجلس کی تین طلاقیں => مسائل طلاق مفاہیم عشق => مقالات علم سے دوری کیوں؟ => مقالات

میلنگ لسٹ

بريديك

موجودہ زائرین

باقاعدہ وزٹرز : 59063
موجود زائرین : 11

اعداد وشمار

47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
272
فتاوى
56
مقالات
187
خطبات

تلاش کریں

البحث

مادہ

رجوع کیے بغیر طلاق

سوال:

کیا فرماتے ہیں علماء دین مسئلہ ھذا کے بارے میں کہ مسمى عبد اللہ بن سراج دین نے اپنی اہلیہ کو 2013ء میں ایک طلاق دی پھر کچھ دن بعد رجوع کر لیا۔ پھر 2022ء میں طلاق ہوئی لیکن رجوع نہیں کیا۔ اگلے مہینے یعنی ایک مہینہ بعد پھر طلاق دے دی۔ کیا اب میاں بیوی رجوع کر سکتے ہیں؟ جبکہ عدت بھی گزر گئی ہے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

ایک طلاق کے بعد جب تک رجوع نہ کیا جائے دوسری طلاق واقع نہیں ہوتی۔ کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالى نے طلاق دینے کا وقت بھی مقرر فرمایا ہے اور حکم دیا ہے:

يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ

اے نبی! صلى اللہ علیہ وسلم جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں نکے مقررہ وقت میں طلاق دو۔

سورۃ الطلاق:1

جب سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ کو حیض کی حالت میں طلاق دی اور سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ، وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَتِلْكَ العِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ

اسے حکم دے کہ وہ رجوع کرے پھر اسے روکے رکھے حتى کہ وہ پاک ہو جائے پھر حیض آئے پھر پاک ہو، پھر اگر چاہے تو اس کے بعد روکے رکھے اور  چاہے تو اس سے ہمبستری سے قبل طلاق دے دے ۔ یہ وہ وقت مقررہ ہے جس میں طلاق دینے کا اللہ تعالى نے حکم  دیا ہے۔

صحیح البخاری: 5251

اس حدیث میں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو دوسری طلاق سے قبل رجوع کا حکم دیا ہے۔ اور پھر آخر میں فرمایا ہے کہ یہ وہ وقت ہے جس میں طلاق دینے کی اللہ نے اجازت دی ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ دوسری طلاق اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک رجوع نہ ہو اور  رجوع کے بعد ایک حیض گزرے پھر اسکے بعد والے طہر میں جماع سے پہلے پہلے طلاق دی جاسکتی ہے۔ اگر جماع کر لیا تو پھر طلاق دینا منع ہو جائے گی حتى کہ حیض آ جائے اور اسکے بعد اگلا طہر آئے یا پھر عورت حاملہ ہو جائے۔

لہذا صورت مسئولہ میں صرف دو طلاقیں واقع ہوئی ہیں ، اور عدت بھی گزر چکی ہے لہذا خاوند کو تجدید نکاح کرنے کا حق حاصل ہے۔

هذا، والله تعالى أعلم،وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم،والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وأصحابه وأتباعه، وبارك وسلم


وکتبہ
ابو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

  • الثلاثاء PM 02:49
    2023-06-06
  • 900

تعلیقات

    = 3 + 8

    /500
    Powered by: GateGold