میلنگ لسٹ

بريديك

موجودہ زائرین

باقاعدہ وزٹرز : 168988
موجود زائرین : 57

اعداد وشمار

14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
278
فتاوى
56
مقالات
188
خطبات

تلاش کریں

البحث

مادہ

حالت نفاس میں طلاق

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے خاوند عمران علی ولد سنتا نے مجھے 25 نومبر 2022ء کو ‏حالت نفاس میں طلاق کا میسج کیا، اس کے بعد دوسرا میسج جنوری 2023ء میں اور تیسرا میسج فروری میں بھیج دیا۔ کیا اب ہمارے لیے صلح کی کوئی ‏گنجائش ہے؟ ‏ (سائلہ: فردوس بی بی ولد شہامند علی)‏

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

صورت مسئولہ میں صرف ایک رجعی واقع ہوئی ہے، اور اس کی عدت بھی گزر چکی ہے۔ آپ تجدید نکاح کے ذریعہ خانہ آبادی کر سکتے ہیں۔

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ، وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَتِلْكَ العِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ»

’’انہوں نے  دونبوی میں اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی ، توسیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا۔ تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دے کہ وہ اس سے رجوع کرے، پھر اسے روکے رکھے حتى کہ وہ (حیض سے) پاک ہو جائے، پھر اسے حیض آئے، پھر پاک ہو، پھر اگر وہ چاہے تو اس کے بعد روکے رکھے اور اگر چاہے تو اسے مباشرت سے قبل طلاق دے دے۔ یہ وہ مقررہ وقت ہے کہ اللہ نے جس وقت میں عورتوں کو طلاق دینے کی اجازت دی ہے۔‘‘                      

          [صحیح البخاری: 5251]

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ:

حالت حیض میں طلاق دینا منع ہے! البتہ اگر کوئی اس حالت میں طلاق دے دے تو واقع ہو جاتی ہے کیونکہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے اس طلاق کو شمار فرمایا تھا۔                                                                                                                           

        [ سنن الدارقطنی 3912]

ایک طلاق دینے کے بعد دوسری طلاق دینے کے لیے رجوع ضروری ہے، کیونکہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو بھی سنت کے مطابق طلاق دینے کے لیے رجوع کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

الگ الگ مجالس میں دی گئی طلاقوں کو الگ الگ شمار کرنے کے لیے عموما حدیث رکانہ رضی اللہ عنہ پیش کی جاتی ہے۔ لیکن وہ داؤد بن الحصین عن عکرمہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔

هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وبارك وسلم

  • السبت AM 11:58
    2023-09-16
  • 1528

تعلیقات

    = 5 + 7

    /500
    Powered by: GateGold