اعداد وشمار
مادہ
تعوذ
درس کا خلاصہ
قرآن مجید کی تلاوت سے قبل جو الفاظ رسول اللہﷺ نےسکھائے ہیں: «أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ, مِنْ هَمْزِهِ, وَنَفْخِهِ, وَنَفْثِهِ»انہیں یاد کریں اور ہر نماز میں کی ہر رکعت میں پڑھیں ۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
تعوذ
محمد رفیق طاہر غفر اللہ لہ
سیدنا ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب نماز کا آغاز کرتے تو تکبیر تحریمہ کہتے اور «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ, تَبَارَكَ اسْمُكَ, وَتَعَالَى جَدُّكَ, وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» دعا پڑھتے اور اس کے بعد کہتے: «أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ, مِنْ هَمْزِهِ, وَنَفْخِهِ, وَنَفْثِهِ» ([1])
یعنی تعوذ پڑھتے۔ یہ نبی ﷺ کا معمول تھا اور طریقہ کار تھا کہ آپﷺ ثنا ء کے بعد تعوذ کے کلمات «أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ, مِنْ هَمْزِهِ, وَنَفْخِهِ, وَنَفْثِهِ» پڑھتے۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بھی حکم دیاہے: ‹فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ›
’’جب قرآن کی تلاوت کرنے لگیں تو تعوذپڑھ لیا کریں یعنی اللہ کی پناہ طلب کریں شیطان مردود سے ۔‘‘
[النحل: 98]
اور اللہ تعالیٰ کاحکم فرضیت اور وجوب کے لیے ہوتاہے۔اسی طرح نبی کریم ﷺ کا حکم بھی فرض اور لازم قرار دینے کے لیے ہوتا ہے ۔ہا ں اگر کوئی قرینہ صارفہ آجائے یعنی اگر کسی کام کا حکم دیاگیا ہے لیکن حکم کے باوجود یہ ثابت ہو جائے کہ خود نبی ﷺ نے یہ کام ایسے نہیں کیا ، تو وہ فرض نہیں ہوگا۔ مثلاًتعوذ کو ہی لے لیجیے۔ اللہ تعالی کا حکم ہے کہ جب بھی آپ قرآن کی تلاوت کرنے لگیں تو تعوذ پڑھیں۔ جبکہ نبی کریم ﷺ سے یہ بات ثابت ہے کہ کئی مرتبہ دوران گفتگو آپﷺ بطور دلیل قرآن مجید کی کوئی آیت پڑھتے اور آیت پڑھنے سے پہلے تعوذ نہیں پڑھتے تھے۔
مثال کے طور پر براء ابن عازب کی روایت ہےمسند احمد اور سنن ابی داؤد وغیرہ میں ہے کہ نبیﷺ نے آخرت کے احوال کا ذکر کیا اور پھر اس پر بطور دلیل قرآن مجید کی آیات بھی تلاوت فرمائیں اور اعوذ باللہ نہیں پڑھی۔([2])
اسے کہتےہیں قرینہ صارفہ۔اگر ایسا کچھ ثابت ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہوتاہے کہ جو حکم دیا گیا ہے اللہ کی طرف سے یا نبی ﷺ کی طرف سے،اس کا معنیٰ یہ نہیں ہے کہ یہ کام فرض اور لازمی ہے، بلکہ یہ حکم استحباب کے لیے ہے کہ بندہ ایسا کرے تو زیادہ ثواب ہے، باعث اجر ہے۔ لیکن اگر بندہ نہ کرے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ نبی ﷺ سےاس کے برخلاف کام ثابت ہے ۔ یہی معاملہ تعوذ کا ہے کہ نبیﷺ نے تعوذنہیں پڑھا او رتعوذپڑھے بغیر قرآن مجید کی کچھ آیا ت تلاوت کی۔مختلف مواقع پر ایسا ہو اہے۔ نبیﷺ کی عادت تھی کہ آپ ﷺ نماز میں فاتحہ کا آغازکرنےسے پہلے تعوذپڑھتے تھے ۔ جب بھی بندہ قرآن کی تلاوت کرنے لگے اس وقت تعوذکا حکم ہے، چاہے رکعت پہلی ہو، دوسری ہو، تیسری ہو یا چوتھی ہو۔ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنی ہے۔ سورہ فاتحہ قرآن ہے تو قرآن کی تلاوت سے پہلے تعوذپڑھنا افضل اور مستحب عمل ہے اور مسنون ہے۔ یہ نبیﷺ کا طریقہ کار ہے ۔ اس لیے بہتر ،افضل او راولیٰ طریقہ کار یہ ہے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کا آغازکرنےسے پہلے اعوذ باللہ پڑھیں اور تعوذکے وہ کلمات جو نبی ﷺ پڑھا کرتے تھے، انہیں اختیار کریں۔ نبی ﷺ یہ الفاظ پڑھا کرتے تھے: «أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ, مِنْ هَمْزِهِ, وَنَفْخِهِ, وَنَفْثِهِ»
ویسے اس کے علاوہ تعوذکے دیگر کلمات بھی نبیﷺ نے سکھائے ہیں۔ صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ دو آدمی آپس میں لڑ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً، لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ، لَوْ قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ([3])
’’ اگر یہ ایک کلمہ کہے تو اس کا غصہ کافور ہوجائے گا۔ وہ کلمہ «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ہے ۔‘‘
یہ بھی تعوذکے کلمات ہیں جو نبی ﷺ نے سکھائے ہیں۔ لیکن قرآن مجید کی تلاوت سے قبل جو الفاظ رسول اللہﷺ نےسکھائے ہیں: «أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ, مِنْ هَمْزِهِ, وَنَفْخِهِ, وَنَفْثِهِ»انہیں یاد کریں اور ہر نماز میں کی ہر رکعت میں پڑھیں ۔
_______________________
([1]) أبو داود (775)، والنسائي (2/ 132)، والترمذي (242)، وابن ماجه (804)، وأحمد (3/ 50)
([2]) أبو داود (4753)، وأحمد (18534)
-
الجمعة PM 06:32
2023-02-03 - 1301





